Take a fresh look at your lifestyle.

تالیف۔۔۔جمال الہی۔۔۔حضرت سید ابوالفیض قلندر علی سہروریؒ۔۔۔ قسط نمبر12

15

ترک کے کارنامے ان کی سیاہ کاریوں پر شہادت دیتے ہیں اور خیال ہوتا ہے کہ جس زمانہ ساز لوگوں نے اپنی قوم میں غیر معمولی شہرت حاصل کرنے کے لیے اس قسم کی زندگیاں اختیار کر لی تھیں جو بظاہر تارک الدنیا کا بورڈ لگا کر دنیا داروں سے زیادہ گل کھلانے والی ثابت ہوئیں اور دی افراد عوام میں دیوتائی کا منصب پا کر شرک کا جوڑ معین ہو گئے ۔

شرک یائت پرستی ایسا عام اور مشہور لفظ ہے جس کی تعریف کی چنداں ضرورت نہیں ۔ اگر ہے تو اس کی حقیقت بیان کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم سرسری الفاظ میں اس کے ذکر سے اس کی حقیقت ضرور آشکار ہو جاتی ہے ۔ لفظ بت کسی چیز کے مجسمہ یا نقشہ کا نام ہے، جو کی وجہ سے انسان کے خیال اور توجہ کا مرکز بن جا تا ہے ۔ یہاں یہ بھی ذکر کر دینا بے جا نہ ہوگا کہ بت پرستی کی ابتداء کب اور کیونکر ہوئی ، تا کہ بحث سابق کی تائید ہو جاۓ۔

 دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے پتہ چل جائے گا کہ سب سے پہلے بت پرستی کا آغاز مشاہیر

انسانوں کی خلاف معمول قوت اور ستارہ پرستی سے ہوا۔ اقوام میں جولوگ زیادہ صاحب ہمت وزور نکلے اورقوم کو اپنی قوت کا لوہا منوالیا، وہی قوم میں پرستاری کے مستحق سمجھے جانے لگے اور انہی کے مجھے خدائی قوتوں کے حامل قرار دیے گئے ۔ حالانکہ خدائی صفات سے ان کی فانی قوتوں کو کوئی ڈور کی مناسبت بھی نہ ہوتی ۔ فرعون ، شداد نمرود وغیرہ اسی نوع کے افراد تھے جو ہمیشہ حق پرستوں کے مقابلہ میں ذلیل ہوکر بر باد ہوۓ ۔

دوسرا سلسلہ رہا ستارہ پرستی کا ۔سومصر کا کلدانیہ،ایران اور ہندوستان میں ستارہ پرستی کا سب سے مقدم ہونا پایا جا تا ہے ۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری تاثیرات گرمی سردی ،زراعت ۔ سیم کاشت کانشو وارتقاء، معد نیات کی رنگ آمیزی، نباتات کی نیرنگی اور حیوانات کی تلون مزاجی کو دیکھ کر نظام علوی وسفلی کا باہم ارتباط اور تاثیر وتاثر انسانی عقل میں آیا ، اور انہی دونوں نظاموں کے طبعی تاثرات دیکھنے کے بعد ان کے باہمی تعلقات سمجھ میں آۓ جن کی وجہ سے گردش کواکب کے ماتحت ایک طرف علم نجوم قائم ہوا اور دوسری جانب ستاروں کی تاثیر روکنے ۔۔یا۔۔اس کے دفعیہ کے لیے ان کی پرستش شروع کر دی گئی اور اس پرستش کا معکوس نام تسخیر رکھا گیا۔ تاریخ اماری کا مصنف لکھتا ہے کہ علم نجوم اور اس کے عقیدے کی ایجاد بابل سے ہوئی اور ستارہ پرستی

میں تخیل بھی قائم کر لیا گیا کہ ستارے جاندار اور ذی عقل اجسام ہیں، اور بعض کے دماغ اس طرف بھی گئے کہ ان میں دیوتاؤں کے مسکن ہیں، اور یہ خیال اکثر مشرقی اقوام کے دماغوں پر مسلط رہا ہے ۔ گردش کواکب اور اُس کی تاثیرات سے یہ خیال بھی پیدا ہو گیا کہ ستاروں کا اثر دنیا پر ہے جس سے عوام میں ان کی تعظیم وعبادت کا بھی رواج پڑ گیا اور وہ رفتہ رفتہ قدیم زمانہ میں شخصی اسماء سے موسوم ہو گئے ۔

چونکہ یہ ستارے غائب اور غروب ہو جانے والی ہستیاں تھیں اس لیے ان کی جگہ ان کی ہیکلیں قائم کی گئیں اور ان ہیکلوں کی بھی ویسی ہی پرستش وعبادت ہونے گلی جیسی اصلی ستاروں کی ہوتی تھی ۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ صابی مذہب کی پرستش اصنام کی ابتداء یہیں سے ہوئی ہے ۔ اور تمام قدیمی اقوام اس بے معنی تخیل میں جکڑی ہوئی تھیں اور وہ یہ ھی مانتی تھیں کہ آسمان وزمین کا تمام خلا روحوں سے بھرا ہوا ہے ۔کلانیہ سے صابی مذہب انہی اعتقادات پر جاری ہو کر مصر اور ہندوستان میں پہنچا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندؤوں کے معبد اور مند رھاہیوں کے معبدوں کی طرح تھے ۔

 ان پرانے اعتقادات سے پتہ چلتا ہے کہ ستارے ذی روح اور ذوی العقول ہیں اور ان میں نیک و بد کی تاثیرات موجود ہیں اور گردش زمانہ کا انہی تاثیرات پر انحصار ہے اور ستاروں کا سعد نجس ہی انسانی اجسام اور دنیا کے تمام امور پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ بارش کا نزول اور بادلوں کی کشش بھی انہی ستاروں کی تاثیر پر منحصر ہے ۔ غرضیکہ تمام روۓ زمین میں اور خلا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ صرف ستاروں کی تاثیرات سے ہی ہوتا ہے، زردشتی مذہب والے بھی اس عقیدہ کے ماتحت ستاروں کی تعظیم کا بڑی شدت سے حکم دیتے ہیں اور عبادت کے اوقات میں ان کی ہیکلوں کو پیش نظر رکھنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہیں۔ ایسے ہی ہندو مذہب کی حالت بھی محض قدرتی مظاہر کی پرستش بتائی جاتی ہے جس میں انتظام علوی کواکب پرستی ، اور نظام سفلی ، نباتات ، حیوانات اور جمادات داخل ہیں ۔اور اسی بنا پر رگ وید میں جن قابل پرستش دیوتاؤں کا تذکرہ ہے وہ اس ترتیب سے بیان کئے گئے ہیں

۱۔ اندر ( بارش کا دیوتا ) ۔

۲۔ وردنا ( انصاف کا دیوتا ) ۔

۳۔ ویش ویشنو ( سورج۔۔ یا۔ ۔ روشنی کا دیوتا ) ۔

 ۴۔وایو( ہوا کا دیوتا)

Leave A Reply

Your email address will not be published.