Take a fresh look at your lifestyle.

تالیف۔۔۔جمال الہی۔۔۔حضرت سید ابوالفیض قلندر علی سہروریؒ۔۔۔ قسط نمبر13

13

 (۵) ۔۔ یاما( صبح وشام کا دیوتا )

(۲) ۔ ۔ سرسوتی ( علم ۔ یا۔ دریا کا دیوتا)۔

غرضیکہ یہی وہ دیوتے ہیں جو معبود ۔۔ یا۔۔ قابل پرستش سمجھے جاتے ہیں اور انہی کی اب بھی پرستش کی جاتی ہے ۔ خود کرشن جی کا قول ہے کہ عوام جب نامعلوم خدا کا تصور نہیں کر سکتے اور نہ اس کی حقیقت کو مجھ سکتے ہیں تو پھر وہ موجودہ کائنات ہی کو خدا کیوں نہیں سمجھتے اور اس تحقیق پر کرشن جی نے سب سے پہلے اپنے آپ کو خدا کہا۔ بی مقام ہماری کتاب میں تفصیل بیان کی ضرورت سے الگ ہے اس لیے اس بحث کو چھوڑ کر اصل موضوع کی وضاحت کرتے ہیں ۔

ہزاروں برس کے تاریخی معلومات کا مطالعہ اور انسانی نفسیات کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ خداوند عالم کی عبادت کا کوئی ایسا طریقہ مقبول عام نہیں ہوسکتا جس میں بہت کچھ وقت اور محنت کرنی پڑتی ہو اور جوطریقہ عوام میں اس لیے پسند یدو نہ ہو کہ اس میں وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہو کیونکہ دنیوی زندگی کی کش مکش اور روزی کمانے کی جد و جہد تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور متمدن و مہذب ممالک کی آبادی کے پاس فرصت کا بہت کم وقت ہوتا ہے جس میں و و یا دخدا کے لیے پورا پورار جو ع کرسکیں ۔

 اس تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ صابی مذہب میں ستارہ پرستی یعنی نظام علوی کی عبادت تھی تو زرتشتی دین میں کواکب پرستی کے ساتھ ساتھ آتش پرستی بھی عبادت کا جز ولا ینفک بنی ہوئی تھی ۔ ہندو دھرم میں مخلوق پرستی، دیوتا پرستی ، ہیرو پرستی اور بت پرستی رواج پذ تھی ، تو اس سے بڑھ کر بدھ مت میں اصنام پرستی اور انسان پرستی زوروں پر رہی ۔اب ان مذاہب پر اجمالی نظر ڈالیے جو خدا پرستی کے دعویدار خیال کئے جاتے ہیں کہ ان میں کہاں تک پرستش کر دگار پائی جاتی ہے ۔ یہود، عیسائی اور مسلمان ، یہ تین گروہ ہیں جو خدا پرست خیال کئے جاتے ہیں ۔ ہم ان تینوں مذاہب کے بانیوں کے متعلق کچھ بھی لب کشائی نہیں کر سکتے کیونکہ اپنا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کے فرستادہ صادق رسول اور گناہوں سے معصوم تھے۔ زیر بحث مسئلہ صرف ان کے بگڑے ہوۓ طریق مذہب کا ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ خدا پرستی ان تینوں میں سے بحالہ کس میں باقی ہے اور کس کا طریق عبادت بت پرستی اور شرک کی آلائشوں سے پاک ہے۔

 خدا پرستی کے پانچ ۵ رکن ہیں :

ا ۔ توحید، (۲) ۔۔رسالت، (۳) ۔۔ اوامر ،( ۴)۔ ۔ نواہی ، (۵) ۔۔سزاو جزا۔

 توحید ۔ تمام مبدا و معاد کا مرکز ہے، اور مبدا ومعا مخلوق کے آغاز وانجام کا نام ہے۔ رسالت ۔ ایک قدرتی مشعل نور ہے جو مبدا و معاد کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے اور اس کا نورانی جلوہ دکھاتی ہے ، یہی نور وظلمت اوامر و نواہی ہیں جن سے مبدا و معاد کا سلسلہ قائم ہے اور انہی کی بنا پر سزاو جز امنتج ہوتی ہے ۔

مذہب یہود:

اپنے اندر پانچوں ارکان موجود ہونے کا مدعی ہے اور اس کے ماننے والوں کا دعوی ہے کہ ہم خالص توحید پرست ہیں ۔ ہمارے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰؑ 150 قبل مسیح میں پیدا ہوۓ اور اوامر و نواہی اور سزاو جزا کے احکام تعلیم فرمائے ، خدا کی توحید پھیلائی اوراپنی قوم کے سامنے کتاب البی تو رات کو پیش کیا اور خود پردہ پوش ہوگئے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ صحیح ہے ۔ تو حید بھی پھیلائی ،ت پرستی کے خلاف جہادبھی ہوا۔ نماز کو ذریعہ عبادت بھی قرار دیا بیج اعمال وعقائد کی تعلیم بھی دی لیکن یہ تو بتائیے کہ ۳۹۸ قبل مسیح کے پیدا شدہ نبی حضرت عز یزؑ کو خدا کا بیٹا کہنا کس تو حید پرستی سے لیا گیا اور اس شرک آمیز توحید کا کیا ثبوت ہے؟ کیا نعوذ باللہ! وہ واقعی خدا کے بیٹے تھے؟ اور کیا حسب تعلیم موسیٰؑ خداوند عالم وحدہ لاشریک تمام نقائی اور صفات نقصان سے بری نہیں ہے؟ کیا نسبت فرزندی کسی ظرف سے اس کے لیے جائز ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر یہ توحید میں تثنیہ کیسا؟ پھر یہ بتائے کہ موسیٰؑ کی نماز موحدانہ بھی ؟ کیا تعلیم کے مطابق خدا کے سامنے جبہ سائی گناہ ہے؟ اگر نہیں تو ان کی امت نماز میں سجدہ کرنے کو کیوں عار جھتی ہے؟ کیا خدا کے سامنے سجدے کا انکار کفر ہیں؟ اور کیا ان اعمال وعقائد سے قوم یہودیت پرست اور موحد ثابت ہوسکتی ہے؟

مذہب عیسائی :

یہودیوں کی طرح عیسائی بھی مدعی ہیں کہ نظام خدا پرستی کے ارکان خمسہ ہم میں موجود ہیں ۔ اور

Leave A Reply

Your email address will not be published.