Take a fresh look at your lifestyle.

تالیف۔۔۔جمال الہی۔۔۔حضرت سید ابوالفیض قلندر علی سہروریؒ۔۔۔ قسط نمبر29

6

اسماء الہی تین طرح پر ہیں:

ایک اسم ذات جس کو علم کہا جا تا ہے۔ علم صرف اللہ ہے۔ اسم ذات میں کسی صفت کا لحاظ نہیں ہوتا ۔ یہاں تک کہ زندہ اور موجود ہونے کا بھی اعتبار نہیں کیا جا تا مثلا ”زید ایک شخص کا نام ہے لیکن اس بات کا کوئی لحاظ نہیں کہ زیداب بھی موجود ہے ۔ زندہ ہے یا نہیں ، نہ اس کی کسی دوسری حالت کا لحاظ کیا جا تا ہے ۔ عالم ، جاہل بھی بخیل ،شجاع ، بزدل ، نیک اور بد قلمند و بے وقوف، یہ تمام صفات مفہوم ذات سے زائد ہیں ۔لفظ زید میں ان کا کوئی لحاظ نہیں ۔

دوسرے اسما و صفاتی، جوصفت کے صیغے ہیں جن کا استعمال اللہ کے سوا دوسروں کے لیے بھی ممکن ہے ۔ اگر چہ مقدار اور حیثیت صفت میں فرق ہوگا ،مگرفس صفت کا مفہوم مشترک ہوتا ہے، مثلا: حی اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے اور زیدبھی کی ہے۔اللہ بھی حی ہے لیکن اللہ تعالی کی حیات اور زید کی حیات میں بڑا فرق ہوگا ۔ ایسے ہی ظاہر و باطن اسم صفاتی ہیں۔ مخلوق و خالق دونوں پر ان کا اطلاق ہوتا ہے، اگر چہ خلوق کا ظہور وابطون اللہ تعالی کے ظہور وبطلون سے بالکل جدا گا نہ ہوگا ۔ جس کی کوئی مناسبت نہیں ۔

 تیسرے وہ اسماء ہیں جو اصل مفہوم اور وضع کے اعتبار سے تو توصیفی ہیں مگر شرعی تخصیص کی وجہ سے بھی اسم ذات کی طرح مستعمل ہوتے ہیں ۔ یعنی ایک ذات خدا کے علاوہ مخلوق پران کا اطلاق صیح نہیں ۔مثلا : اسم رحمن ہے، جس کا وصفی مفہوم کے اعتبار سے تو مخلوق پر بھی اطلاق کیا جاسکتا ہے، مگر شریعت نے چونکہ ذات باری تعالی کے ساتھ اس کو مخصوص کر دیا ہے اس لیے می اسم اپنی خصوصیت کے لحاظ سے اسم ذات کی طرح مخصوص ہو گیا ہے۔

الغرض ۔ قرآن حکیم نے انسان کو خدا کے اعتقاداور تصور کی دعوت دیتے ہوئے سب سے پہلے جن صفات کا حسن و جمال بے نقاب کیا ہے ۔وہ ، ربوبیت ، رحمت ، اور عدالت تین صفتیں ہیں جن کی وضاحت سورۂ فاتحہ کے مطالعہ سے ہو جاتی ہے ۔ارشاد ہوتا ہے:

الحمد لله رب العلمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين ۔یعنی  ساری تعریفیں ، ہرقسم اور ہر طرح کی ثنائیں، حسن و جمال کی شیفتگی ،اور تمام خوبیوں کمالوں کے ساتھ جو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے ۔ وہ اللہ جوتمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے جس کی ربوبیت کا ئنات ہستی کی مخلوق کو اس کی زندگی اور بقا کا تمام سامان بخشتی

ہے اور اس کی پرورش کی تمام ضرورتیں مہیا کرتی ہے۔ اور جو رحمت والا ہے جس کی رحمت کی بھائیں تمام عالم خلقت کو اپنے نوال محبت سے مالا مال کر رہی ہیں ۔ جس کے قبضہ و تصرف میں جزا وسزا اور مکافات کا دن ہے، اور جس کی عدالت نے ہر کام کے لیے بدلہ اور ہر بات کے لیے نتیجہ کا قانون جاری و نافذ فرما دیا ہے ۔

 یہ وہ الفاظ میں جن سے تصور الہی کی جلوہ نمائی ہوتی ہے اور انہی کے تفکر سے ہم قرآن کریم کے تصور الہی کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں ۔

 مندرجہ بالا بیان سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی کے ناتوفیقیہ ہیں ۔ یعنی جن اسماء کوخو درب العزت نے اور اس کے رسول ﷺ نے اسماء الہی بتایا ہے ان کے سوا اللہ تعالی کوکسی اور نام سے یا کر نا اسے اللہ کریم کا مقدس اسم سمجھنا جائز نہیں۔ فلہ الاسماء الحسنی کی تفسیر میں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ایسے نناوے نام ہیں جن کی یا دانسان کو جنت تک پہنچادیتی ہے ۔احادیث صحیحہ میں تو اسی قدر بیان ہوا ہے ،مگر احادیث کے طبقہ ء ثانیہ کی کتابوں میں اور اسماء سنی کو بھی بزرگان دین نے فراہم کیا ہے اور لوگوں میں زیادہ تر مشہور روایت وہ ہے جو سنن ترمندی میں ہے اور اس کے متعلق کتب میں یہ لکھا گیا ہے کہ ترمذی کے سوا اور کسی نے بھی تفصیل بیان نہیں کی ۔

 ان احادیث کی رو سے جن میں تفصیل اسماءموجود ہے ۔ تین طریقے ہیں جو محد ثین میں مشہور ہیں ۔طریق اول ترمذی کا ہے اور اس بیان میں یہی سب سے زیادہ شہرت یافتہ ہے ۔ اس طریق کو محد ثین کی زبان میں طریق صفوان بن صالح کہتے ہیں اور اس طریق کو تر مذی علیہ المہ کے سواطبرانی وابن حبان وابن خزیمہ نے بھی بیان فرمایا ہے ۔

 طریق دوم زبیر بن محمد کا ہے جس کو ابن ماجہ نے بیان کیا ہے ۔طریق سوم عبدالعزیز بن حصین  کا ہے جس کو حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے ۔ مگر ہر سہ طریق روایات اور اسماء مبینہ پر غور کرنے کے بعد ایک محقق بآسانی اس نتیجہ پرپہنچ سکتا ہے کہ اسماء حسنیٰ کی تفصیل حضوراکرم ﷺ سے ثابت نہیں، بلکہ علماء کرام نے اپنے اپنے فہم علم سے ان اسماءکوقرآن پاک سے نکالا ہے اورحافظ ابن کثیرؒ و حافظ ابن حجرؒ نے یہ بھی تحریر فرما دیا ہے کہ ابو زید بغوی نے اسماء حسنیٰ کا استخراج قرآن مجید سے کیا ہے۔ پھر اس فہرست میں امام سفیان بن عیینہ اور امام جعفر صادقؓ نے ایز ادی فرمائی ہے،

Leave A Reply

Your email address will not be published.