Take a fresh look at your lifestyle.

مسیح الدجال۔۔۔تحریر۔۔۔ڈاکٹر عبدالرؤف۔۔۔قسط نمبر10

8

قسط نمبر 10
مسیح الدجال
دجال کون ؟؟
تحریر : ڈاکٹر عبدالرؤف
ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔مسیح الدجال۔۔۔تحریر۔۔۔ڈاکٹر عبدالرؤف۔۔۔قسط نمبر10)دجال: ۔۔۔ احادیث کی نظر میں ۔
دجال کے متعلق چند مزید احادیث ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ ﷺ، عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ( وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَشَدَّ سُؤَالا مِنِّي ) فَقَالَ: ” لِي مَا تَسْأَلُ عَنْهُ؟ ” قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ،قَالَ: ” هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ "۔
(خ/الفتن ۲۷ (۷۱۲۲)، م/الفتن ۲۲ (۲۹۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۶، ۲۴۸، ۲۵۲) (صحیح))
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا ۔ وہ دونوں کہتے ہیں ھیں کہ ان سے وکیع نے اور وکیع سے اسماعیل بن ابی خالد نے ۔ ان سے قیس بن ابی حازم نے اور قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے دجال کے با رے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہ کئے ،(ابن نمیر کی روا یت میں یہ الفا ظ ہیں ” أَشَدَّ سُؤَالا مِنِّي ” یعنی مجھ سے زیا دہ سوال اور کسی نے نہیں کئے)، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم اس دجال کے با رے میں کیا پو چھنا چاہتے ہو؟” میں نے عرض کیا : لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا ،آپ ﷺ نے فرمایا:” اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۔”
صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹی کا پہاڑ ہوگا اور پانی کی نہریں ہوں گی، تب آپ نے یہ فرمایا : کہ اللہ پر یہ اس سے زیادہ آسان ہے ۔ اورممکن ہے کہ حدیث کا ترجمہ یوں کیا جا ئے کہ اللہ تعالی پر یہ بات دجال سے زیادہ آسان ہے۔ اس کے معانی کے بارے میں علماء کی کچھ آراء ہیں ۔

  1. جب ا س نے دجال کو پیدا کردیا تو اس کو کھانا پا نی دینا کیا مشکل ہے ،
  2. دجال ذلیل ہے ، یہ روٹی کے پہاڑ اور پانی کی نہریں دجال۔کی نشانی ہوں گی ، تاکہ اس کی پہچان کی جا سکے ۔ لیکن میرے نزدیک اگر اس حدیث کو دوسری احادیث کے ساتھ ملا کر اور اسلوب کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا مطلب یہ ھو گا کہ
    دجال مادی وسائل سے مالا مال ہو گا ۔ لوگوں کو کھلائے پلائے گا ، رزق کی اس کے پاس فراوانی ہو گی۔ وسائل بے پناہ ہوں گے ۔ جس کے بارے میں چاہے گا اس کے رزق کو تنگ کر دے گا اور جس کو چاہے گا نواز دے گا۔
    آج ہم دیکھتے ہیں کہ طاغوت ، کفریہ طاقتوں ، یورپی استعماری قوتوں ،اور یہود و نصارٰی کے پاس وسائل بے تحاشا مقدار میں ھیں۔ وہ قرض اور امداد کے ذریعے اور مادی وسائل کی جھنکار کا استعمال کر کہ لوگوں کے ایمان پر حملہ آور ہو گا ۔ لوگ بھوک مٹانے کے لیے اس کے زیر نگیں ھوں گے ۔ فرعون کے خلاف جب موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اللہ کی طرف دعوت دی تو وہ کہنے لگے موسیٰ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو سچا ہے لیکن فرعون ہمارے وسائل پر قابض ہے وہ ہم پر عرصہ حیات تنگ کر دے گا ۔
    حدیث مبارکہ کے مطابق بھی دجال کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہریں ہونے کا یہی مطلب ھے ۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَ لا يَصْعَدُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ، إِلا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَمِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَجَالِسٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ، أَنِ اقْعُدُوا: ” فَإِنِّي، وَاللَّهِ! مَا قُمْتُ مَقَامِي هَذَا لأَمْرٍ يَنْفَعُكُمْ، لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا [ مَنَعَني الْقَيْلُولَةَ، مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ ]، أَلا إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَخْبَرَنِي: أَنَّ الرِّيحَ أَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ لا يَعْرِفُونَهَا، فَقَعَدُوا فِي قَوَارِبِ السَّفِينَةِ، فَخَرَجُوا فِيهَا، فَإِذَا هُمْ بِشَيْئٍ أَهْدَبَ، أَسْوَدَ كَثَيْرَ الْشَعَرِ، قَالُوا لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: [ مَا أَنَا بِمُخْبِرَتَكُمْ شَيْئاً، وَلا سَائِلَتِكُمْ ]،وَلَكِنْ هَذَا الدَّيْرُ، قَدْ رَمَقْتُمُوهُ، فَأْتُوهُ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ تُخْبِرُوهُ وَيُخْبِرَكُمْ، فَأَتَوْهُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا هُمْ بِشَيْخٍ مُوثَقٍ، شَدِيدِ الْوَثَاقِ، [ يُظْهِرُ الْحُزْنَ شَدِيدِ التَّشَكِّي]، فَقَالَ لَهُمْ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالُوا: مِنَ الشَّامِ، قَالَ: مَافَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ مِنَ الْعَرَبِ، عَمَّ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرًا، نَاوَى قَوْمًا، فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْرُهُمُ الْيَوْمَ جَمِيعٌ: إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: خَيْرًا، يَسْقُونَ مِنْهَا زُرُوعَهُمْ، وَيَسْتَقُونَ مِنْهَا لِسَقْيِهِمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ [ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ ] قَالُوا: يُطْعِمُ ثَمَرَهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَنَبَاتُهَا مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ، قَالَ: [ فَزَفَرَ ثَلاثَ زَفَرَراتٍ ] ثُمَّ قَالَ: لَوِ انْفَلَتُّ مِنْ وَثَاقِي هَذَا، لَمْ أَدَعْ أَرْضًا إِلا وَطِئْتُهَا بِرِجْلَيَّ هَاتَيْنِ، إِلا طَيْبَةَ لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سَبِيلٌ "، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ” إِلَى هَذَا يَنْتَهِي فَرَحِي، هَذِهِ طَيْبَةُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا فِيهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ، وَلا وَاسِعٌ، وَلا سَهْلٌ وَلا جَبَلٌ، إِلا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "۔
    داود۔ /الملاحم ۱۵ (۴۳۲۶، ۴۳۲۷)، ترمذی۔ /الفتن ۶۶ (۲۲۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۲۴)، (صحیح)
    ترجمہ :
    فا طمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھا ئی، اور منبر پر تشریف لے گئے، اور اس سے پہلے جمعہ کے علاوہ آپ منبر پر تشریف نہ لے جا تے تھے ، اس بات سے لوگوں کو کچھ تعجب ہوا ، کچھ لو گ آپ کے سامنے کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے ہا تھ سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا:”اللہ کی قسم !میں منبر پر اس لئے نہیں چڑھا ہوں کہ کو ئی ایسی با ت کہوں جو تمہیں کسی رغبت یا خوف زدہ کر دینے والے کام کا فائدہ دے، بلکہ با ت یہ ہے کہ میرے پاس تمیم داری آئے، اور انہوں نے مجھے ایک خبر سنا ئی( جس سے مجھے اتنی مسرت ہو ئی کہ خو شی کی وجہ سے میں قیلولہ نہ کرسکا ، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے نبی کی خو شی کو تم پر بھی ظا ہر کر دوں)،
    سنو! تمیم دا ری کے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ سے یہ وا قعہ بیان کیا کہ(ایک سمندری سفر میں) ہوا کا رخ ان کو ایک بے آباد جزیرے کی طرف لے گئی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، یہ لو گ چھو ٹی چھو ٹی کشتیوں پر سوار ہو کر اس جزیرے میں گئے ،انہیں وہاں ایک کالے رنگ کا شخص نظر آیا جس کے جسم پر کثر ت سے بال تھے، انہوں نے اس سے پوچھا :تو کون ہے ؟اس نے کہا :میں جساسہ(دجال کی جاسوس) ہوں،ان لوگوں نے کہا: توہمیں دجال کے متعلق کچھ بتا،اس نے کہا: (نہ میں تمہیں کچھ بتاوں گا ، نہ ہی کچھ تم سے پوچھوں گا )، لیکن تم اس دیر (راہبوں کے مسکن) میں جسے تم دیکھ رہے ہو جا و، وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا خو اہش مند ہے کہ تم اسے خبر بتا و اور وہ تمہیں بتائے، کہا : ٹھیک ہے،یہ سن کر وہ لو گ اس کے پاس آئے، اس گھر میں داخل ہو ئے تو دیکھاکہ وہاں ایک بوڑھا شخص زنجیروں میں سخت جکڑا ہوا ہے (رنج و غم کا اظہا ر کر رہا ہے، اوراپنا دکھ دردسنانے کے لئے بے چین ہے) تواس نے ان لوگوں سے پو چھا: تم کہاں سے آئے ہو ؟انہوں نے جواب دیا کہ شام سے، اس نے پوچھا، عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں، تم کس کے با رے میں پو چھ رہے ہو؟ اس نے پو چھا: اس شخص کا کیا حال ہے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا )جو تم لوگوں میں ظاہر ہوا ہے؟ انہوں نے کہا۔ وہ بھی ٹھیک ہے، اس نے قوم سے دشمنی کی، پھر اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا کیا ، تو آج ان میں اجتماعیت ہے ، ان کا معبود ایک ہے ، ان کا دین ایک ہے، پھر اس نے پو چھا: زغر (شام میں ایک گاؤں )کے چشمے کا کیاحال ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لو گ اس سے اپنے کھیتوں کو پا نی دیتے ہیں، اور پینے کے لئے بھی اس میں سے پا نی لیتے ہیں، پھر اس نے پو چھا: (عمان اور بیسان (ملک شام کے دو شہروں) کے درمیان کھجورکے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہر سال وہ اپنا پھل کھلارہے ہیں، اس نے پو چھا: طبریہ کے نالے کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا:اس کے دونوں کناروں پر پا نی خوب زوروشور سے بہ رہا ہے، یہ سن کر اس شخص نے تین آہیں بھریں ) پھرکہا ، اگر میں اس قید سے چھوٹا تو میں اپنے پاؤں سے چل کر زمین کے چپہ چپہ کا گشت لگاوں گا ،کو ئی گوشہ مجھ سے باقی نہ رہے گا سو ائے طیبہ (مدینہ) کے ،وہاںمیرے جا نے کی کوئی سبیل نہ ہو گی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ ” یہ سن کر مجھے بے حد خو شی ہو ئی، طیبہ یہی شہر (مدینہ )ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مدینہ کے ہر تنگ وکشادہ اور نیچے اونچے راستوں پر ننگی تلوا ر لئے ایک فرشتہ متعین ہے جو قیامت تک پہرہ دیتا رہے گا”
    ( اور دجال کو وہاں تک آنے سے روکے رکھے گا)
    دوسری روایت میں ہے کہ دجال احد پہاڑ تک آئے گا، پھر ملائکہ اس کا رخ پھیر دیں گے۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ زنجیرمیں جکڑے اس شخص نے کہا مجھ سے امیوں( یعنی ان پڑھوں) کے نبی کا حال بیان کرو، ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکل کر مدینہ گئے ہیں، اس نے کہا ، کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے ؟ ہم نے کہا ، ہاں، لڑے، اس نے کہا ، پھر نبی نے ان کے ساتھ کیا کیا ۔۔ ؟۔۔۔ ہم نے اُسے بتلایا کہ وہ اپنے گرد وپیش عربوں پرغالب آگئے ہیں اورانہوں نے اس رسول ( ﷺ )کی اطاعت اختیارکرلی ہے ، اس نے پوچھا کہ کیا یہ بات ہوچکی ہے؟ ہم نے کہا ۔۔۔۔ ہاں، یہ بات تو کب کی ہوچکی ،اس نے کہا ، سن لو!یہ بات ان کے حق میں بہترہے کہ وہ اس کے رسول کے تابعدارہوں، البتہ میں تم سے اپنا حال بیان کرتاہوں کہ میں مسیح دجال ہوں، اوروہ زمانہ بہت قریب ہے کہ جب مجھے خروج کی اجازت (اللہ کی طرف سے ) دے دی جائے گی ،
میں مکہ اور مدینہ طیبہ کو چھوڑ کر میں کوئی ایسی بستی نہیں چھوڑوں گا جہاں میں نہ جاؤں، وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں، جب میں ان دونوں میں کہیں سے جانا چاہوں گا تو ایک فرشتہ ننگی تلوار لے کر مجھے اس سے روکے گا، اور وہاں ہر راستے پرچوکیدار فرشتے ہیں ، یہ فرما کر آپ ﷺ نے اپنی چھڑی منبر پر ماری ،اور فرمایا : طیبہ یہی ہے، یعنی مدینہ اور میں نے تم سے دجال کا حال نہیں بیان کیا تھا کہ وہ مدینہ میں نہ آئے گا ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے بیان کیا تھا پھر آپ نے فرمایا ، شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، نہیں، بلکہ مشرق کی طرف اور آپ نے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا۔
(صحیح مسلم /کتاب الفتن : باب : قصۃ الجساسۃ ۔۔ حدیث حضرت تمیم داری )
اس حدیث کا ظاہر تو یہ بتاتا ہے کہ دجال کسی جزیرے پر ہے اور بوڑھا ھے ۔ جبکہ دوسری حدیث کے مطابق دجال جوان ھے ۔ ممکن ہے راوی کو سہو ہوا ہو۔ یا یہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فتنہ دجال کی مختلف کیفیات بیان کرنا مقصود ہو۔ ہر دور میں دجال صفت ایک نظام دنیا میں رہا یہی وقت کا دجال ہے ۔
دوسری بات یہ کہ یہ حدیث ایک لطیف اشارہ کرتی ہے ہے کبھی بھی کسی دور میں بھی مسلمانوں کو دجال کے فتنے سے بے خوف نہیں ھونا چاہئے اور اپنے دور کے دجال کو پہچاننا چاہئے ۔ اور دوسروں کو آگاہ کرنا چاہئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.