Take a fresh look at your lifestyle.

ثانیٔ زھراء، اُم المصائب، شریکۃ الحسین حضرت زینبؓ

21

کربلا، اسلامی تاریخ، بل کہ پوری انسانی تاریخ کا وہ لرزہ خیز سانحہ ہے جس میں رہتی دنیا تک کے لیے اسرار و رموز پنہاں ہیں۔

نواسۂ رسول اکرمؐ، حضرت امام حسینؓ نے10 محرم یومِ عاشور کربلا میں اپنے احباب و انصار و اہل حرم کے ساتھ دین حق کی خاطر عظیم قربانیوں کی عظیم تاریخ رقم کی۔ یومِ عاشور جہاں نواسۂ رسولؐ کے ساتھ کربلا میں ہر عمر اور صنف کے افراد خوابِ ابراہیمؑ کو تعبیر دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے تھے، وہیں خواتین نے بھی عزم و ہمت اور جرأت و شجاعت کے باب رقم کیے۔ انہی سرکردہ خواتین میں حضرت زینبؓ بھی ہیں، جنہوں نے دینِ حق کی سربلندی کی خاطر کربلا میں ناصرف اپنے دو بچوں عونؓ و محمدؓ کی قربانی پیش کی، بل کہ اول تا آخر جہاد کربلا میں ایک فعال قائد کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں پورے وقار اور حوصلے سے نبھائیں۔

حضرت زینبؓ، نبی پاک حضور ختمی مرتبت ﷺ کی نواسی، حضرت فاطمۃ الزھرا ؓ اور حضرت علیؓ کی بڑی صاحب زادی اور حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی بہن تھیں۔ حضرت جعفرِ طیارؓ کی بہو اور حضرت عبداﷲ بن جعفرِ طیارؓ کی زوجہ تھیں۔

حضرت زینبؓ بنت علیؓ کی ولادت 5 ہجری میں مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ جب آپؓ دنیا میں تشریف لائیں تو آپؓ کے نانا رسول کریم ﷺ کسی سفر پر گئے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ نے اپنی نومولود صاحب زادی کا نام اس وقت تک تجویز نہیں کیا جب تک حضورؐ اپنے سفر سے واپس تشریف نہ لے آئے۔ جب اﷲ کے رسول ﷺ واپس تشریف لائے تو پارۂ عصمت حضرت زینبؓ کو اپنی آغوش میں لے کر حکمِ خداوندی کے مطابق زینب نام تجویز فرمایا۔ روایت ہے کہ اس منزل پر حضورؐ کی آنکھوں سے اس قدر آنسو جاری ہوئے کہ ریشِ مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ کسی کے دریافت کرنے پر رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا:

’’جبرائیل امینؑ نے مجھے بتایا ہے کہ میری یہ بیٹی کربلا کے روح فرسا مصائب میں میرے حسینؓ کے ساتھ برابر کی شریک ہوگی۔‘‘

اس کے بعد آپؐ نے وہاں موجود لوگوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: ’’یہ میری بچی خدیجۃ الکبریٰؓ کی من و عن تصویر ہے۔‘‘

حضرت زینبؓ کی ابتدائی تربیت حضور ختمی مرتبتؐ، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمۃالزھرا ؓ کے زیر ِسایا ہوئی تھی۔ ثانیٔ زھراء کو بچپن ہی سے اپنے بے مثال بھائی حضرت امام حسینؓ سے خصوصی محبت و الفت تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ بچپن میں بھی اگر آپؓ کو تھوڑی دیر کے لیے امام حسینؓ کے چہرے کی زیارت نصیب نہ ہوتی تو آپؓ پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ یہ محبت و الفت بچپن سے کربلا تک اس درجۂ کمال کو پہنچ چکی تھی جہاں یک جان دو قالب کی صورت پیدا ہوگئی اور حضرت امام حسینؓ جیسی شخصیت نے سانحۂ کربلا کے دوران حضرت زینبؓ سے مشاورت فرمائی۔ یہی سبب ہے کہ کربلا میں آپؓ نے امام حسینؓ کے اتباع میں ناصرف بہ تمام و کمال پیش آنے والے تمام مصائب کو برداشت کیا، بل کہ اپنے دو بیٹوں حضرت عونؓ و محمدؓ کو بھی راہِ حق میں فدیہ کیا۔ اور اس کے بعد کربلا سے کوفہ و شام تک بے پردگی کے عالم میں بھائی کے پیغام کو عام کرتی چلی گئیں، اسی لیے آپؓ کو شریکۃ الحسینؓ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بی بی زینب کو اُم المصائب بھی کہا جاتا ہے، وہ اس لیے کیوں کہ آپؓ نے مسلسل غم و آلام نہایت قریب سے دیکھے۔ اول پانچ برس کی عمر میں حضور ختمی مرتبت ﷺ کی رحلت پر گھر میں صفِ ماتم دیکھی۔ پھر اپنی والدۂ ماجدہ فاطمۃ الزھراءؓ کی وفات پر غم و الم کا شکار ہوئیں۔ پھر امیرالمومنین اور اپنے والد محترم حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی شہادت کا غم سہا، اس کے بعد بڑے بھائی امام حسنؓ کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا اور آخر میں اپنے چہیتے بھائی حضرت امام حسینؓ کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ حضرت امام حسینؓ سے پہلے کے تمام واقعات و حادثات کا مشاہدہ کربلا کے لیے آپؓ کا تربیتی اثاثہ قرار پایا اور یومِ عاشور آپؓ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور بیٹوں کو خون میں غلطاں دیکھا، مگر اﷲ کے شُکر کے سوا آپؓ کی زبان مبارک سے کوئی اور لفظ نہ نکلا۔

حضرت زینبؓ کی طبیعت میں عبادت و پرہیزگاری کا جوہر نہایت غالب دکھائی دیتا ہے۔ تمام غم و آلام پوری خندہ پیشانی سے سہتی رہیں، مگر عباداتِ خداوندی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ حضرت زین العابدینؓ فرماتے ہیں:

’’میری پھوپھی نے تمام سفر و اسیری کے دوران کبھی نماز قضا نہیں کی اور وقت رخصتِ آخر امام حسینؓ نے بھی اپنی بہن زینبؓ سے فرمایا تھا: ’’ اے بہن! مجھے اپنی نمازِ شب میں فراموش نہ کرنا۔‘‘

یہ سند ہے کہ حضرت زینبؓ نہایت عبادت گزار اور پرہیزگار تھیں۔ آپؓ کو ثانیٔ زھراء کہنے کی وجہ غالباً یہی ہے کہ آپ حسبی و نسبی اعتبار سے کئی منازل میں حضرت فاطمۃالزھراؓ سے مماثلت رکھتی ہیں۔ حضرت فاطمۃالزھرا نے آغوشِ رسالت ﷺ میں پرورش پائی تو حضرت زینبؓ کو آغوشِ رسالتؐ و ولایت میسر آئی۔ حضرت فاطمۃالزھراءؓ کی والدہ ماجدہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ ہیں تو حضرت زینب کی والدہ خاتونِ جنّت حضرت فاطمۃالزھراءؓ ہیں۔

حضرت فاطمہ ؓ کے دو فرزند راہِ خدا میں شہید ہوئے تو حضرت زینبؓ نے بھی اپنے دو بیٹے راہِ خدا میں فدیہ کیے۔11محرم الحرام کو ’’یومِ زینبؓ‘‘ کا مقام حاصل ہُوا اور آپؓ پر مصائب کی انتہا ہوگئی۔ راہِ کوفہ و شام کا سر برہنہ سفر آپؓ کے مصائب کی ہمت و جرأت کا امتحان ثابت ہوا۔ زینبؓ اس مقام سے بھی سرخ رُو گزریں اور کوفہ و شام میں آپ کے بھرپور خطبات ثابت کرتے ہیں کہ آپؓ نے بغیر کسی گھبراہٹ و خوف کے کبھی راہِ کوفہ میں تو کبھی دربارِ یزید میں نہایت جرأت و شجاعت کے ساتھ ظالم کے ظلم اور مظلوم کے حق کی وضاحت فرمائی۔ ان خطبوں کی علمیت، ان کی اہمیت اور اندازِ خطابت حضرت علیؓ کے خطبات کی یاد دلاتا ہے اور ان سے حضرت زینبؓ کی علمیت و تدبر کی عکاسی ہوتی ہے۔

کربلا میں حضرت زینبؓ کی ذاتِ اقدس محض ایک بہن کی نہیں ہے، صرف ایک ماں کی نہیں ہے، صرف ایک مجاہدہ اور خطیبہ کی نہیں ہے، بل کہ زینبؓ نام ہے اس شخصیت کا جس نے کربلا میں لاتعداد کرداروں کو ایک سانچے میں ڈھالتے ہوئے دین حق کی سربلندی میں عورت کے عظیم کردار کی وضاحت کی ہے۔ کربلا میں آپؓ کی شخصیت سے ہر شعبۂ زندگی سے متعلق ہدایت آفریں کردار کی نشان دہی ہوتی ہے۔ خواتین اسلام کے لیے جناب زینبؓ کا کردار ہمیشہ لائق تقلید رہے گا۔

خطبۂ امُ المصائب سیّدہ زینب بنت علی کرم اﷲ وجہہ

’’ تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں، جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اور درود و سلام حضور نبی کریم ﷺ اور ان کے اہل بیت پر۔ اﷲ رب العزت کا فرمان ہے کہ ان لوگوں کا انجام برُا ہے، جو بُرے کام کرتے ہیں اور اس کے احکامات کو جھٹلاتے اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔

اے یزید! تُونے ہم پر زمین تنگ کردی اور ہمیں قید کیا اور تُو سمجھتا ہے کہ ہم ذلیل ہوئے اور توُ برتر ہے، تو یہ سب تیری اس سلطنت کی وجہ سے ہے اور تُونے شاید اﷲ پاک کا فرمان نہیں سنا کہ کفار یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے ان کے ساتھ جو نرم رویہ رکھا ہے وہ ان کے لیے بہتر ہے بل کہ صرف یہ مہلت ہے تاکہ وہ دل کھول کر گناہ کریں پھر ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ تُونے آلِ رسول ﷺ اور بنی عبدالمطلب کا ناحق خون بہایا اور عن قریب تو بھی ایک دردناک انجام سے دوچار ہوگا۔ میں اﷲ پاک سے امید رکھتی ہوں کہ وہ ہمارا حق ہمیں دے گا اور ہم پر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لے گا اور ان پر اپنا قہر نازل فرمائے گا۔ تُو عن قریب اپنے گناہوں کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوگا اور جو اﷲ کے راہ میں شہید ہوئے ان کے بارے میں اﷲ ہی کا فرمان ہے کہ وہ زندہ ہیں انہیں رزق ملتا ہے اور جن لوگوں نے تمہارے لیے تمہارا راستہ آسان کیا وہ بھی عن قریب تیرے ساتھ برباد ہونے والے ہیں۔

اے یزید! اگر تُو ہماری ظاہری کم زوری کو خود کے لیے غنیمت سمجھتا ہے توکل بہ روز ِقیامت تُو اپنا کیا ہوا پائے گا۔ اﷲ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ اور نہ ہی ہم اس سے کوئی شکوہ کرتے ہیں، بل کہ ہم ہر حال میں صابر اور اس پر بھروسا کرنے والے ہیں، تُو اپنے مکر و فریب سے جو چاہے کرلے، مگر تُو ہرگز ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکے گا اور نہ ہی ہمارے مقام کی بلندی کو چُھو سکے گا۔ تیری یہ سلطنت عارضی ہے اور عن قریب منادی کرنے والا منادی کرے گا۔ اور لعنت ہو ایسی قوم پر جس نے یہ ظلم و ستم کیا۔ پس اﷲ پاک کی حمد و ثناء ہے، جس نے ہمارے پہلوں کا ایمان کے ساتھ اور شہادت کے ساتھ خاتمہ فرمایا اور وہ نہایت مہربان اور رحم والا ہے اور ہمارے لیے کافی ہے، کیوں کہ وہ بہترین کارساز ہے۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.