Take a fresh look at your lifestyle.

مقناطیس کی بدولت پانی سے آکسیجن الگ کرنے کا کامیاب تجربہ

19

پیساڈینا، کیلیفورنیا: اسے کیمیا کے زمرے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہے کہ ماہرین نے مقناطیس کی بدولت پانی سے آکسیجن کشید کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

خرد ثقلی (مائیکروگریویٹی) کے ماحول میں مقناطیسی قوت سے آکسیجن اخذ کی جاسکتی ہے۔ اس طرح پانی سے آکسیجن نکالنے کا ایک کم خرچ اور آسان طریقہ سامنے آسکے گا جس سے خلانوردوں کو بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ایلویرو رومیر کالوو کہتے ہیں کہ ’ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں انسانوں کے لیے الیکٹرولائٹک سیل سے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں توڑا جاتا ہے لیکن یہ مہنگا اور طویل طریقہ ہے۔ پھر ناسا کے ماہرین کا خیال ہے کہ پانی سے آکسیجن بنانے والی روایتی ٹیکنالوجی سے مریخ کا طویل سفر بے معنی ہوجائے گا کیونکہ اس ضمن میں پانی کا وسیع بوجھ ساتھ لے جانا ہوگا اور بجلی کی بیٹریاں الگ سے درکار ہوں گی۔

خلا میں ثقل نہ ہونے کی وجہ سے پانی سے آکسیجن نکال باہر کرنا محال ہوتا ہے۔ زمین کی کشش کی وجہ سے ہی ہم سافٹ ڈرنک کی سطح پر تیرتے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بلبلے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن خلا میں یہی بلبل پانی کے اندر گھومتے رہتے ہیں اور اس کے لیے مرکزِ گریز (سینٹری فیوج) قوت درکار ہوگئی تاکہ جھاگ نما بلبلوں کو ایک جگہ جمع کیا جاسکے۔

پھر مقناطیس کو خلا جیسی کیفیت آزمانے کے لیے سائنسدانوں نے جرمنی میں مائیکروگریویٹی کے ایک مرکز میں تجربات کئے۔ یہ 146 میٹر طویل سائنسی ٹاور ہے جس میں ایک کیپسول گھومتا ہے اور کچھ وقت کے لیے ثقل کمزور ہوتی ہے اور بسا اوقات 9.2 سیکںڈ کے لیے ثقل کمزور ہوجاتی ہے۔

اس  کے بعد کمپیوٹر ماڈل اور دیگر تجزیاتی عمل سے مقناطیس کی بدولت پانی سے بلبلے نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا توقع ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی ایک بہت آسان طریقے سے پانی سے آکسیجن بناسکے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.