Take a fresh look at your lifestyle.

ایک ہزار پیٹنٹ کے حامل، پاکستانی نژاد امریکی کے لیے’موجد برائے سال‘ کا اعزاز

24

اوریگن: پاکستانی نژاد امریکی طاہرغنی ٹرانسسٹراور پروسیسر کی دنیا میں عالمی شہرت رکھتے ہیں اور اب انہیں سال 2022 کے موجد (انوینٹرآف دی ایئر) کا اعزاز دیا گیا ہے۔

طاہر غنی گزشتہ 28 برس سے ٹرانسسٹرز پر بنیادی تحقیق کررہے ہیں جنہیں پروسیسر کا دل و دماغ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اب تک سینکڑوں اختراعات اور ایجادات کرچکے ہیں اور ان کے پیٹنٹ کی تعداد 1000 سے زائد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں’مسٹرٹرانسسٹر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

طاہرغنی انٹیل کمپنی میں ’پروسیس پاتھ فائنڈنگ ٹیکنالوجی گروپ‘ کے سربراہ ہیں۔ انہی کی کاوشوں سے آج ہم انگلی کے ناخن جتنی ایک چپ پر اربوں ٹرانسسٹر سماسکتے ہیں۔ ان سب کی پشت پرٹیکنالوجی مفکر گورڈن مور کی ایک پیشگوئی نما مفروضہ ہے جسے ’مورس کا قانون‘ قرار دیا گیا ہے۔

مورس کا قانون کیا ہے؟

واضح رہے کہ مورس کا قانون، مشاہدے پر مبنی ایک قسم کا مفروضہ جاتی اظہار ہے ناکہ یہ فزکس کا کوئی قانون ۔ 1965 میں گورڈن مور نے کہا تھا کہ ہر دوسال بعد کسی بھی انٹی گریٹڈ سرکٹ یعنی آئی سی میں اکائی رقبے پر ٹرانسسٹرکی تعداد دوگنی ہوجائے گی۔ تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور ٹرانسسٹر مختصر ترین ہوتے جارہے ہیں اور یکساں چپ پر کمپیوٹرچپ پر ٹرانسسٹر کی تعداد دوگنی ہوتی جارہی ہے اور گورڈن مورس کی بات درست ثابت ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عشرے قبل ایک کمرے پر پھیلے کمپیوٹر ہماری مٹھی میں سماچکےہیں۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے ماہرین کو جو محنت کرنا پڑی وہ ان کا دل ہی جانتا ہے۔

عین اسی تناظر میں طاہرغنی کا کام بینادی ترین اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے بقول انٹیل، مورس لا کو زندہ و قائم رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے شاندار تحقیقات، اختراعات اور ایجادات کی ہیں۔ گزشتہ 28 برس میں انہوں نے انٹیل کے پروسیسر میں انقلابی کام کیا ہے اور یوں ادارے کو کروڑوں اربوں روپے کا فائدہ ہوا اورانٹیل کا نام اب بھی پروسیسر سازی میں سرِ فہرست ہی ہے۔

انٹیل کا عزم ہے کہ 2030 میں ایک پروسیسر پر ٹرانسسٹر کی تعداد ایک ٹریلیئن تک کردی جائے اور اس خواب کی تعبیر بھی طاہر غنی کے ہاتھوں ہوں گی۔

اس متعلق طاہر غنی کہتے ہیں کہ مورس لا کے خاتمے کی پیشگوئی کی جاتی رہی ہے لیکن یہ ’اس وقت ختم ہوگا جب ہم اختراع کرنا بند کردیں گے۔‘

طاہرغنی کے اہم ترین کاموں میں اسٹرینڈ سیلیکون، ہائی کے میٹل گیٹ، فِن فیٹ ٹرانسسٹرز اور حال ہی میں ربن ایف ای ٹی ٹرانسسٹرز شامل ہیں۔

لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے طاہر غنی نے 1980 کے اوائل میں یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے الیکٹریکل انجینیئرنگ میں بی ایس سی کیا، 1990 سے 1994 تک انہوں نے اسٹینفرڈ یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کیا، اور اب وہ انٹیل کے سینیئر فیلو اور ممتاز عالمی سائنسداں ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.