Take a fresh look at your lifestyle.

زیادہ خبروں کا دیکھنا جسمانی و ذہنی صحت کےلیے خطرناک قرار

13

ٹیکساس: کوویڈ-19 کی عالمی وباء سے لے کر منکی پاکس کی وباء تک، روس کے یوکرین پر حملے سے لے کر اسکولوں میں فائرنگ اور جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات تک ٹیلی ویژن کی اسکرین پر خبروں میں تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا جاسکتا۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عادتاً خبریں دیکھنے والے افراد میں 16 فیصد سے زائد لوگ جسمانی اور ذہنی صحت کے سنجیدہ مسائل میں گرفتار ہوسکتے ہیں جبکہ وہ لوگ جنہوں نے مسائل زدہ خبروں کے متعلق بتایا وہ طویل مدت تک شدید دباؤ سے گزرے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر لبوک میں قائم ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی کالج آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن میں ایڈورٹائزنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کے مصنف برائن مک لافلِن نے بتایا کہ وہ افراد جو مستقل خبروں کے متعلق سوچتے ہیں، خبریں ان کی صحت پر ان کی سوچ سے زیادہ منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

برائن مک لافلِن کا کہنا تھا کہ اگر یہ (شدید دباؤ) مستقل شدید سوزش کا سبب بنتی ہے تو اس کے کسی فرد کی جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً کوویڈ تمام تر سیاسی تصادم اور تقسیم کے ساتھ اس کا بڑا سبب ہے اور جو چیز مزید تشویش ناک ہے لوگوں کے تناؤ سے بھرپور ان خبروں کی گہرائیوں میں پھنسنے کے امکانات زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیزوں کے متعلق باخبر رہنا فائدہ مند ہوتا ہے لیکن اگر یہ خبریں آپ کو دباؤ میں لانا شروع کردیں تو ان کو چھوڑ کر اپنے جذبات پر توجہ دینا شروع کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.