Take a fresh look at your lifestyle.

تباہ کن سیلاب اور متاثرین ۔۔۔بیلاگ تبصرہ ۔۔۔محمد جاوید عظیمی

26

ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔تباہ کن سیلاب اور متاثرین ۔۔۔بیلاگ تبصرہ ۔۔۔محمد جاوید عظیمی)اس وقت وطن عزیز پاکستان طوفانی بارشوں کے باعث مشکلات اور مصائب کا شکار ہےچاروں صوبوں میں پانی ہی پانی ہے،بڑے بڑے ہوٹلز ،عمارتیں ،گھر ،مکان ،دیہات ،گاؤں اور برج پانی میں غرقاب  ہو گئے  ہیں جبکہ فصلوں کو بھی بے حد  نقصان پہنچا ہے۔محتاط اندازے کے مطابق3کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔اس مشکل گھڑی میں افواج پاکستان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔

مگر دوسری جانب سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ رہنماؤں کے مابین الزامات لگانے اور ایک دوسرے پر مقدمات درج اور خارج کرانے کا سلسلہ بام عروج پر ہے۔ان بے حس سیاستدانوں  کو متاثرین کا رتی برابر بھی احساس نہیں ہے۔ ملک بھر میں سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں مگر ہمارے سیاستدان بے شرمی اور ڈھٹائی سے بیان بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں ہمارے جلسے جاری رہیں گے۔ان بیانات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں عوام کے لئے کتنا احساس ہے ملک ڈوب جائے یا تباہ ہو جائے ان کوئی دلچسپی نہیں ان کو صرف اقتدار چاہیے سیلاب زدگان بے گھر ہو جانے کے ساتھ ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں مگر نا م نہاد عوامی نمائندے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ۔حال ہی میں ریاست پاکستان  کو دیوالیہ کرانے کے لئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی مبینہ فون کال جس میں وہ وزیرخزانہ پنجاب اور وزیر خزانہ پختو نخوا کو آئی ایم ایف کو خط ڈرافٹ کرانے کی ہدایات دے رہے ہیں۔مذکورہ خط کا مقصد آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 17کروڑ ڈالر کی قسط کو رکوانا تھا جبکہ پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری نے دوران گفتگو سوال کیا۔جناب اس سے ریاست پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا شوکت ترین نے جواب میں کہا کوئی بات نہیں نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے   کیونکہ موجودہ حکومت ہمارے چیئرمین عمران خان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی لہذا ہمیں کسی  طرح کے نقصان کی بھی کوئی پرواہ نہیں آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مخالفت میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پاکستان نہیں اپنا چیئرمین عزیز ہے۔مذکورہ کھلی سازش کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کے رکے  ہوئے قرض کی قسط کو بحال کر دیا۔ ملک اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزما ہے مگر دوسری جانب اقتدار کی ہوس میں پاکستانی عوام کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بھی عروج پر ہے۔ہونا  تو یہ چاہیے تھا سیاستدانوں کو تما م اختلافات بھلا کر سیلاب زدگان کی مالی اعانت اور ہمہ وقت خدمت کے جذبے سے عملی طور پر میدان میں اترنا چاہیے تھا  مگر اس کے برعکس پہ آپس میں چھوٹی چھوٹی اور غیر ضروری باتوں پر جھگڑے کرنےمیں مصروف ہیں۔اگر کوئی حب الوطنی کے جذبوں کے ساتھ سیلاب متاثرین کی مدد کررہاہے تو اس پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اس وقت ہم سب پاکستانیوں کو یکجا ہو کر اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنی ہو گی۔ اس سلسلے میں سیاسی اور جماعتی معاملات کو بالائے طاق رکھ کر بلا تفریق  خدمت کے کام میں شامل   ہو جائیں کیونکہ ہما رے مصیبت زدہ بہن  بھائیوں کو ہماری اشد ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں متذکرہ امتحان میں کامیابی کے ساتھ پاکستان کی حفاظت فرمائیں۔

آمین ثمہ آمین۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد

Leave A Reply

Your email address will not be published.