Take a fresh look at your lifestyle.

کائنات کی داستان : بگ بینگ ماڈل۔۔۔ تحریر۔۔۔ضیار قیرمان

14

کائنات کی داستان : بگ بینگ ماڈل

تحریر۔۔۔ضیار قیرمان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔ کائنات کی داستان : بگ بینگ ماڈل۔۔۔ تحریر۔۔۔ضیار قیرمان)آج سے تقریبا تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال پہلے  ہماری موجودہ کائنات نے اپنا آغاز ایک منظم پھیلاؤ سے کیا ۔ اسے بگ بینگ کہتے ہیں ۔ بگ بینگ کے فورا بعد کائنات بہت ہی زیادہ بہت ہی زیادہ گرم اور کثیف تھی  ساتھ ہی ساتھ یہ ایسے بہت سی قسموں کے ذرات سے پر تھی جو آج ہم اپنی موجودہ کائنات میں نہیں دیکھتے ۔

مزید یہ کہ کائنات بہت تیزی سے بدل رہی تھی۔ یہ کس قدر تیزی سے بدل رہی تھی اس کا اندازہ ہم دو مثالوں سے لگا سکتے ہیں ۔

یہ جملہ لکھتے وقت مجھے جتنا وقت لگا ہے شاید اس سے بھی کم وقت میں کائنات کا درجہ حرارت ٹریلن ٹریلن کے فیکٹر سے گر گیا ۔ اور تقریبا اُس وقت موجود 99.9999 فیصد ذرات آپس میں ٹکرا ٹکرا کر تباہ ہوگئے ۔ یہ دو مثالیں ایسی ہیں جس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کس قدر تیزی سے بدل رہی تھی۔

اگر آپ کسی طرح ماضی میں سفر کر سکنے کے اہل ہوتے اور آج سے ٹھیک بگ بینگ کے بعد کی صورت حال دیکھنے کی کوشش کرتے تب آپ تمام کی تمام خلا کو ایسے سیال سے بھرا ہوا پاتے جو کہ ہمارے سورج کے مرکز سے بھی کہیں گنا زیادہ گرم اور کثیف تھا ۔ تب آپ کو  کوئی خوشگوار سا سانچہ نہیں ملتا ۔ تب صرف ذرات تھے جو مسلسل حرکت کیے جا رہے تھے اور دوسرے ذرات سےٹکرا کر تباہ ہو رہے تھے ۔

اس تصادم کے نتیجے سے بہت زیادہ برقی مقناطیسی توانائی خارج ہو رہی تھی ۔ ایکس ریز ، گیما ریز وغیرہ وغیرہ جیسی شعاعیں ۔بگ بینگ کے بعد جو بھی ذرات تھے وہ ذرات یقینا ایک طرح سے ہماری موجودہ کائنات کے لیے تعمیراتی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اب چوں کہ درجہ حرارت بہت زیادہ تھا اس وجہ سے ان ذرات کو اتنی اجازت نہیں تھی کہ وہ ذرات مل جائیں  اور مل کر ایٹم ( جوہر) کا مرکزہ تشکیل دے سکیں۔

اب چوں کہ کائنات کا آغاز پھیلاؤ سے ہوا تھا اور اس کے بعد بھی تسلسل سے کائنات پھیلے جا رہی تھی یوں آہستہ آہستہ ذرات ایک دوسرے سے دور ہونے لگے اس طرح جب کائنات پھیل رہی تھی کائنات کی گرماہٹ میں رفتہ  رفتہ کمی آ رہی تھی کائنات آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ کائنات کی کثافت میں بھی کمی آنے لگی ۔

اب چوں کہ کائنات کا درجہ حرارت کم ہو رہا تھا اس لیے ذرات کو اتنی اجازت مل گئی تھی کہ یہ ذرات مل کر ایٹم کا مرکزہ یعنی نیوکلیس تشکیل دے سکیں اس لیے جیسے ہی مناسب درجہ حرارت ہوا ایٹموں کے مرکزے تشکیل ہوگئے  اس کے بعد جیسے کائنات تھوڑی اور مناسب حالت میں آئی کہ وہ الیکٹران کو بھی اجازت دے کہ الیکٹران دوسرے ذرات سے مل کر ایٹم بنائے ۔

اس کے بعد ایٹم باقی ایٹموں سے ملے اور سالمے بن گئے ۔ ان سالموں نے وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ گیسی بادلوں کا روپ اختیار کر لیا اور ان گیسی بادلوں کے بعد ستارے ، سیارے ، اور کہکشائیں وغیرہ بنی ۔ اوریوں آہستہ آہستہ  اس مقام تک آگئی جس میں ہم اس کو دیکھتے ہیں ۔

بگ بینگ کا مغالطہ

بہت سے لوگوں کو ایک سنگین مغالطہ ہے کہ بگ بینگ ایک دھماکے کا نام ہے اور چوں کہ دھماکے سے تباہی ہوتی ہے جب کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کائنات نہایت خوبصورت اور شاہکار ہے ۔ ہاں بالکل یقینا کائنات خوبصورت اور شاہکار ہے پر بگ بینگ سچ میں دھماکا نہیں تھا ۔

کائنات کی پیدائش کو دھماکے سے تعبیر کرنے والے ایک چہیتے اور بہت ہی ذہین سائنس دان فریڈ ہوئیل تھے۔ فریڈ ہوئیل سچ میں ذہین تھے پر وہ جارج لیمترا کے نظریے جس کا نام تب بدائی جوہر تھا اور اب جسے ہم بگ بینگ کہتے ہیں  فریڈ ہوئیل اس کے خلاف تھے انھیں لگتا تھا کہ یہ نظریہ غلط ہے اور انھوں نے طنز و مزاح میں اسے بگ بینگ کہہ دیا۔ وہیں سے یہ نام یعنی بگ بینگ مقبول ہوا اور آج تک ایسے ہی رائج ہے ۔

اب ایک اور بات جو ذہن میں رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ بگ بینگ  کوئی تباہی مچانے والا نہیں تھا بلکہ بگ بینگ سے ہر وہ شے وجود میں آئی جو ہماری کائنات کی ہر شے کے لیے بیج کہا جاسکتا ہے ۔ اور بگ بینگ بہت ہی منظم تھا ۔ اس کے منظم ہونے کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ کائنات کا پھیلاؤ جس طرح سے ہوا اگر اس طرح سے تھوڑا سا بھی آہستہ ہوا ہوتا تب جو بھی شے وجود میں آئی تھی وہ واپس پلٹ کر سکڑ جاتیں ۔

ایسے ہی اگر کائنات کا آغاز جس طرح سے ہوا ہے اگر اس طرح سے قدرے تیز ی سے ہوا ہوتا تب شاید کائنات میں ایسے ذرات اور قوتیں وجود میں آگئیں ہوتیں جو ذرات کو اس بات کی اجازت ہی نہ دیتے کہ ذرات مل کر ایٹم ،ایٹم  ایٹم سے مل کر سالمے اور یہ پھر گیسی بادل ہی وجود میں آتے ۔ جب یہ وجود میں نہ آتے توشاید ہم ہی نہ ہوتے ۔

بگ بینگ کے لمحے سے لے کر آج تک کائنات کا ارتقا ہم جس خاکے سے بیان کرتے ہیں اسے بگ بینگ ماڈل کہا جاتا ہے ۔اگر آپ کو کبھی کائنات کی مختصر تاریخ ایک جملے میں بیان کرنی ہو تب آپ کہیں گے کہ شروعات پھیلاؤ سے ہوئی جس کے بعد تسلسل سے کائنات کے پھیلاؤ سے کائنات آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہونے لگی اور آہستہ آہستہ مناسب درجہ حرارت تک جب پہنچی تو ایٹم تشکیل ہونے کے بعد ایٹم دوسرے ایٹموں سے ملے اور اس کے بعد بڑے بڑے سانچے بنے ۔

یقینا ہم اپنا سفر یہیں اختتام پذیر نہیں کریں گے ۔ کائنات کی خوبصورت داستان کو ہم بہت تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.