Take a fresh look at your lifestyle.

بلوچ مسنگ پرسنز۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

15

بلوچ مسنگ پرسنز
حمیراعلیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔ بلوچ مسنگ پرسنز۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )
26 اگست رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب تین سادہ لباس افرادکراچی میں اردو بازار سے علم و ادب پبلشر کے مینیجر اور علمی شخصیت فیہم بلوچ کے پاس تشریف لائے
دفتر کے عملے سے ان کا پوچھا۔فہیم صاحب کے پاس گئے چند سوالات کرنے کے بعد ان سے کہا کہ ان کے صاحب نیچے گاڑی میں موجود ہیں جو ان سے کتب کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے ذرا گاڑی تک چلے چلیں۔فہیم صاحب ان کے ساتھ چلے گئے۔اب ان کی گمشدگی کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے۔پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کا کہنا ہے کہ فہیم بلوچ کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا ہے اور اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔
ہر سال وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ اور کراچی میں لگتا ہے اور ریلیز بھی نکلتی ہیں۔لوگ
اپنے سالوں سے گمشدہ افراد خانہ کی بازیابی کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کے دکھ اور اذیت کا اندازہ کرنا مشکل ہے جن کے خاندان کا کوئی فرد گھر سے اسکول، کالج،بازار ، کام کی جگہ یا کسی دوست کے گھر جانے نکلا اور نہ تو واپس آیا نہ ہی اس کے بارے میں کوئی اطلاع آئی۔ان گمشدہ افراد میں طلباء ، ڈاکٹرز، مزدور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
ایک خاتون کے بھائی اور دو بیٹوں کو رات بارہ بجے کے بعد گھر میں سوتے سے اٹھا کر بنا کچھ بتائے لےجایا گیا۔اور سات ماہ تک ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔سات ماہ بعد ایک لڑکا نہایت مخدوش حالت میں واپس آ گیا لیکن دوسرے دو کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔اس لڑکے نے بتایا کہ اسے ایک نہایت تنگ و تاریک کیوبیکل میں رکھا گیا تھا جہاں صرف اکڑوں بیٹھنے کی اجازت تھی کوئی روشن دان یا کھڑکی اس کیوبیکل میں نہیں تھی۔کھانے کے نام پہ پورے دن میں ایک چھوٹی سی چپاتی اور پتلی بدذائقہ دال دی جاتی تھی۔لڑکے کی ذہنی اور جسمانی حالت سے پتہ چلتا تھا کہ اسے قید تنہائی میں رکھ کر اس سے سچ اگلوانے کی کوشش کی گئی تھی۔اور اس کی بے گناہی ثابت ہونے پر اسے ویسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا جیسے کہ اٹھایا گیا تھا۔جب کہ اس کے بھائی اور ماموں کا تعلق شاید کسی تنظیم سے ثابت ہو گیا تھا اسی وجہ سے ان کا ابھی تک آتا پتہ نہیں۔
بلوچستان میں گمشدگیوں کا سلسلہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا۔ جس میںسردار اختر مینگل کے بھائی اور ان کے ساتھی کو اٹھایا گیا تھا۔سردار اسد اللہ مینگل کی لاش کہاں دفن ہے آج بھی معلوم نہیں۔2005 میں کوہلو میں ہونے والے فوجی آپریشن اور ڈیرہ بگٹی پہ آپریشن میں نواب بگٹی کے مارے جانے ے بعد جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نصر اللہ بلوچ کہتے ہیں ان کے چچاعلی اصغر بنگلزئی پہلے شخص تھے جنہیں جون 2000 میں اٹھایا گیا مگر 14 دن بعد چھوڑ دیا گیا۔پھر 2001 میں انہیں دوبارہ ڈگری کالج کے سامنے سے ایک ساتھی کے ساتھ اٹھایا گیا ساتھی تو چند دن بعد واپس آ گیا اور وہ بیس سال سے لاپتہ ہیں۔2008 کے بعد لوگوں کی تشدد زدہ لاشیں ملنی لگیں۔اب تک8381 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 6163 عدالتی تحقیقات کے بعد ختم کر دئیے گئے۔
سردار اختر مینگل نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ 450 لوگ بازیاب کروائے گئے ہیں اور 1800لاپتہ ہوئے ہیں۔بعض کیسز میں سیکورٹی فورسز نے لواحقین کو رپورٹ کرنے سے منع کیا ہے۔
کفایت اللہ قلات میں ٹیچر تھےفروری میں نوشکی اور پنجگور میں فرنٹیئرکور کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ان کی اہلیہ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے انہیں مینگچر سے غائب کیا۔قائداعظم یونیورسٹی کے ایم فل کے طالب علم حفیظ بلوچ کو خضدار سے اٹھا لیا گیا۔
سرکاری حکام اسے سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہیں جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنےکی کوشش کر رہا ہے۔
وی بی ایم پی کے صدر نصراللہ بلوچ کے مطابق بہت سے واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر کے بیٹے جلیل ریکی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تو علامتی بھوک ہڑتال کیمپ جاری کیا گیا جسے 4600 دن ہو گئے ہیں ۔ایک مارچ کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک گیا۔
2018-19 میں پہلی مرتبہ خواتین کی بڑی تعداد ان گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے لیے نکلی۔جس کی متحرک رکن آواران کے سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ اور انکی اہلیہ ہیں۔یہ تنظیم حکومت بلوچستان سے ملاقاتیں بھی کرتی رہتی ہے۔2019 میں 480 لوگوں کو بازیاب کروایا گیا۔

خواتین کی بڑی تعداد میں احتجاج میں شرکت کے بعد لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے عہدیداروں سے بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے رابطہ کیا اوراس کے بعد وی بی ایم پی کے عہدیداروں کی وزیر اعلیٰ جام کمال سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
26 فروری 2022 کو کوئٹہ کلب کے باہر مظاہرے میں نوشکی کی ایک خاتون نے کہا ہے اس کے دو بھائیوں کو زنگی ناڑو کے سیاحتی مقام سےلاپتہ کیا گیا۔ان کے ساتھ جتنے لوگ تھے وہ واپس آ چکے ہیں جب کہ ان کے بھائی تاحال لاپتہ ہیں۔کمیشن نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے بیرون ملک گئے ہیں۔
مشیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ لوگ دہشت گردی کرتے کے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ ریاست کے خلاف کام کرتے ہیں اس لیے ان کے غائب ہونے کو لاپتہ ظاہر کیا جاتا ہے۔لوگوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا کہ انہیں کس نے غائب کیا ہے ورنہ انہیں بازیاب کروا لیا جائے۔جو لوگ مارے جاتے ہیں وہ دہشت گردی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔زیادہ تر افراد کو دہشت گرد تنظیمں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔اور بہت سے دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں اور دہشت گردی کرتے ہیں اور ان کے گھر والے بےخبر ہوتے ہیں۔پی سی ہوٹل پہ حملے میں شامل حمل فتح اور کراچی یونیورسٹی پہ حملہ کرنے والی خاتون اس کی مثال ہیں ۔قانون نافذ کرنے کے ادارے امن و امان قائم رکھنے کے لیے تفتیش کے بعد بے قصور لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق زیادہ تر بازیاب لوگوں کو قوم پرست تنظیموں سے تعلق کے تناظر میں لاپتہ کیا گیا تھا۔گمشدگیوں کا پتہ لگانے کے لیے 2011 میں جو کمیشن بنایا گیا تھا اس کی ویب سائٹ پہ دعوی کیا گیا ہے کہ دسمبر 2019 میں 6500 سے زائد شکایات آئیں جن میں سے 4365 نمٹائیں گئیں۔872 کو فہرست سے نکال دیا گیا۔501 جیلوں اور 810 حراستی کیمپوں میں ہیں۔205 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔جب کہ تنظیموں کے مطابق ان کی تعداد زیادہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.