Take a fresh look at your lifestyle.

عوام اور فوج کی محبت۔۔۔ تحریر۔۔۔سید علی جیلانی

20

عوام اور فوج کی محبت

تحریر: سید علی جیلانی۔۔۔سوئٹزر لینڈ
سوئٹزر لینڈ (ڈیلی روشنی انٹرنیشنل ۔۔۔ عوام اور فوج کی محبت۔۔۔ تحریر۔۔۔سید علی جیلانی)اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاک فوج کی حیثیت کشتی کے اُس ملاح کی ہے جو طوفانی لہروں میں اپنی حکمت عملی ثابت قدمی، فرض شناسی اور بہادری سے کشتی کو صحیح سلامت کنارے لگاتا ہے، طوفانی لہروں اور بھنور میں پھنسی کشتی اور اس کے مسافروں کو خیر و عافیت سے منزل مقصود تک لاتا ہے، اگر طوفانی لہروں اور بھنور میں ملاح گھبرا جائے اور اپنا حوصلہ طاقت کھود ے تو یقینا کشتی بے رحم لہروں کی نظر ہو کر ڈوب جائے گی اور کئی قیمتی جانیں ہمیشہ کے لیے دم توڑ دیں گی، پاک فوج کے جوان اس کشتی کو تھامے موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتے اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں، اگر کوئی معاشرہ سلطنت زندہ و سلامت رہ سکتی ہے تو اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری قوت کا وجود ہے، پاک فوج اگر سر فروش نہ ہوتی، ملک و قوم کی محافظ نہ ہوتی تو دشمن کب کاپاکستان کو نگل چکا ہوتا 6 ستمبر 1965 کا دن تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جب افواج پاکستان اور پاکستانی قوم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے خلاف جرات اور بہادری کی وہ داستان رقم کی جو رہتی دنیا تک لازوال رہے گی پاکستان کے غازی اور شہیدوں نے شجاعت کے ناقابل یقین کارناموں میں اپنی کامیابی کا لوہا گاڑھا ان کی فرض شناسی اور حب الوطنی جدید جنگوں کی تاریخ میں درخشندہ مقام پر فائز کی جا سکتی ہے، 6 ستمبر منانے کا یہ بھی مقصد ہے کہ دنیا پر عملی شکل میں یہ باور ہو جائے کہ دو قومی نظریہ قائد اعظم محمد علی جناح نے جو پیش کیا تھا ہم آج بھی اس پر قائم ہیں اور قیامت تک انشااللہ دو قومی نظریہ پر کاربند رہیں گے یہ چھ ستمبر کا ہی دن تھا جب پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو ختم کرنے کے لیے ہماری سرحد عبور کر آیا تھا امتحان اور آزمائش کی ہر گھڑی اور موقع کی طرح اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد اہل حق و اہل پاکستان کے ساتھ رہی اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتی پاکستان کی بہادر بری بحری اور فضائی افواج نے دشمن کے وار روکنے کے لئے اپنے سینے ڈھال بنا دیے اس مو قع پر شہریان پاکستان کے رویے بھی بے مثل تھے ادھر بھارتی حملہ ہوا ادھر تمام اختلافات ختم اہل زر نے اپنا مال و دولت اہل فن نے اپنا کسب و کمال اہل قلم نے اپنے الفاظ و جذبات اور اہل دل نے اپنی وفائیں و دعائیں ہمارے گلوکاروں نے اپنی آواز کے جادوں سے ایسے دل کو چھولینے والے نغمے پیش کیے جن میں پاکستان کی محبت ہی محبت تھی ان کے ترانوں نے پاکستانی قوم کو جگایا اور پاکستانی فوج کو ہمت اور جذبہ دیا تاکہ وہ پاکستان کی طرف ہر اٹھنے والی بری نطر کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیں پھر ہر پاکستانی ’’ میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے‘‘ کی عملی تفسیر و تصویر بن گئی پاکستان کے بہادر بیٹوں نے زمین فضا اور سمندر میں ہر معرکہ اور ہر مورچے میں دشمن کے دانت کٹھے کردیئے،لاہور میں ناشتہ کرنے کی سوچ رکھنے والے بزدل دشمن کو تو افواج پاک سے پہلے پاک دھرتی کی غیور عوام نے ہی ناکوں چنے چبوا دیئے پھر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی قیادت میں فرزندان پاکستان نے دشمن کو وہ سبق سکھایا کہ آج تک پاک دھرتی کے ان جانباز فرزندوں کی یاد آتے ہی دشمن کی سوچ تک لہو لہان ہو جاتی ہے، دنیا کا سب سے بڑا ٹینکوں کا حملہ کرنے کی جب دشمن نے جسارت کی تو اسے جنرل ٹکا خان جیسے سالار کی قیادت میں اپنی ماں دھرتی کی ہریالی کو برقرار رکھنے والے ایسے دلیروں سے پالا پڑا جو دھرتی کو بنجر ہوتے ہوئے دیکھ ہی نہیں سکتے تھے اور اپنے خون سے پاک دھرتی کی آبیاری کرتے ہوئے مادر وطن پر نچھاور ہو گئے تاریخ شاہد ہے کہ چونڈہ کے محاذ پر صرف بیالیس شیروں نے دشمن کے ٹینکوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا کیپٹن سرور شہید ، میجر طفیل شہید ، میجر محمد اکرم شہید ، لانس نائیک محمد محفوظ شہید ، سوار محمد حسین شہید ، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ، راشد منہاس شہید ، میجر شبیر شریف شہید ، کیپٹن کرنل شیر خان شہید ، اور حوالدار لالک جان شہید یہ مادر وطن کے وہ مقدس و عظیم فرزندان ہیں جنہوں نے اپنی گلہائے جاں اس عرض پاک پر نچھاور کر کے اس کی ہواوئوں کو معطر کیا ایک غازی ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں بھارت دشمن کے 5طیارے مار گرائے اور یہ ورلڈ ریکارڈ ہے جس کو کوئی بھی توڑ نہیں سکا اور نہ توڑ سکے گا پاک وطن اگر قائم دائم ہے تو اس کے پیچھے جوانوں کا وہ مقدس لہو ہے جو انہوں نے ہنستے ہنستے ملک و قوم کی حُرمت پر نچھاور کر دیا پاک فوج کا ادارہ پاکستان میں واحد مثال ہے جس کی تنظیم نظم اور صلاحیتوں کی مثالیں دنیابھر میں دی جاتی ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے جتنی بڑی نعمت ہو گی اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے ہمارے اسلاف نے قربانی انجام دیں جس کے نتیجہ میں آج ہم آزاد فضا میں جی رہے ہیں بقا کی جنگ میں ضرورت ہوتی ہے ہر اس دشمن کے خاتمے کی جو کسی بھی شکل میں مادر وطن کیلئے ناسور ہو وہ صف دشمناں میں ہو یا لباس یاراں میں وہ کوئی بھی ہو جو مادر وطن کا غدار ہے قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایسے دشمن پر کڑی نظر رکھیں اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ ایسے تمام دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اسی میں وطن کی بقاء ہے ہم دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں یہ 22کروڑ عوام نہیں بلکہ یہ 22کروڑ فوجی ہیں جو اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک اپنے ملک و قوم کی خاطر بہا دیں گے لیکن اپنے ملک پر آنچ نہ آنے دیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بے مثال محبت قیامت تک قائم رہے گی

Leave A Reply

Your email address will not be published.