Take a fresh look at your lifestyle.

پاکستان کے سیاسی حالات۔۔۔تجزیہ ۔۔۔شہزادقریشی  

14

سیلاب قہر خداوندی نہیں انتظامی کوتاہی کا نتیجہ ہے

دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں لیکن حکومتیں منصوبہ بندی کرتی ہیں

ڈیم بناۓ جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی ہمیں لڑائی سے فرصت نہیں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی انٹڑ نیشنل— تجزیہ— شہزادقریشی) خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہوقرآن پاک کا مطالعہ کر میں جن قوموں پر قہر نازل ہواوہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارنگ پر نظر رکھتی ہیں، ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے، دعائیں اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں ہی قہر کیا غریب اور بے بس لا چارعوام پر ہی آتا ہے یہ قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے ان سیلابی ریلوں کو ڈیم بنا کر روکا جاسکتا ہے بھارت نے پانچ ہزارو بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جارہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہاؤس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کر نیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے کلاڈ یا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پکھل رہے ہیں اس کے ذمہ دارترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایی داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جاۓ جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پرمشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا سیاسی قیادت کے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں، بیوروکریسی خاموش تماشائی ہے، قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے، اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری،سازشی اور دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک وقوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے منصوبے بناۓ جا رہے ہیں، اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بناۓ گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.